حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، غاصب اسرائیل میں عام انتخابات کے دوران وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کی اقتدار میں واپسی کی راہ مشکل دکھائی دے رہی ہے۔ سیاسی حریفوں سے سخت مقابلے اور حکومت کے لیے واضح اکثریت حاصل کرنے کی غیر یقینی صورتِ حال کے درمیان نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ نے مبینہ طور پر انتخابی نتائج کو چیلنج کرنے کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ اسرائیلی میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق، جماعت کے اندر اس امکان پر بھی غور کیا جا رہا ہے کہ اگر نتائج نیتن یاہو کے خلاف آئے تو انتخابی دھاندلی کے الزامات اٹھا کر نتائج کو متنازع بنایا جائے۔
اسرائیلی اخبار ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق، لیکوڈ پارٹی کے بعض ذرائع نے بتایا ہے کہ عرب اکثریتی علاقوں میں قائم پولنگ اسٹیشنوں کے خلاف مبینہ دھاندلی سے متعلق شکایات تیار کی جا رہی ہیں۔ ان میں ووٹنگ کے طریقۂ کار اور بعض دیگر انتخابی امور پر اعتراضات اٹھانے کی تیاری بھی شامل ہے۔
رپورٹ کے مطابق، نیتن یاہو کی جماعت اور اس کے اتحادیوں نے تقریباً دو ہزار کارکنوں کو عرب اکثریتی علاقوں کے پولنگ اسٹیشنوں کے قریب تعینات کرنے کا اعلان بھی کیا تھا۔ اس اقدام پر تنقید کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا گیا کہ کارکنوں کی بڑی تعداد ووٹروں پر دباؤ ڈالنے یا انہیں خوف زدہ کرنے کا سبب بن سکتی ہے۔
اسرائیلی میڈیا کی رپورٹوں میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ لیکوڈ پارٹی کے اندر اس صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کیا گیا ہے کہ اگر انتخابی نتائج نیتن یاہو کے خلاف آئے تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی 2020ء کی انتخابی مہم کی طرز پر نتائج کو دھاندلی زدہ قرار دینے کی مہم چلائی جا سکتی ہے۔
یوں انتخابات کے نتائج سامنے آنے سے پہلے ہی ان پر اعتراضات کی تیاری نے اسرائیلی سیاسی ماحول میں ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ تاہم، انتخابی نتائج کے بارے میں حتمی صورتِ حال ووٹوں کی گنتی اور سرکاری اعلان کے بعد ہی واضح ہوگی۔










آپ کا تبصرہ